اگرآپ کےپاس ایک ایسی چیز ہو جو بانٹنے سے کم نہ ہو، تو وہ کیا ہوگی؟‘‘
شاید آپ کہیں گے کہ محبت، خوشی یا مسکراہٹ۔ بالکل درست! مگر ان سب سے بڑھ کر ایک اور نعمت ہےاور وہ ہے امن۔ ہر سال 21 ستمبر کو پوری دنیا میں عالمی یومِ امن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف یہ یاد دلانا نہیں کہ جنگیں ختم ہونی چاہئیں بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ محبت، احترام، برداشت اور بھائی چارا ہر اچھے لفظ، ہر معافی اور ہر مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔‘‘
امن صرف ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ ہمارے دلوں،اور معاشرے میں بھی ہونا چاہیے۔
کیا کبھی آپ نے صبح سویرے پرندوں کی چہچہاہٹ سنی ہے؟ کبھی باغ میں کھلتے ہوئے رنگ برنگے پھول دیکھے ہیں؟ کبھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے آپ کے چہرے کو چھوا ہے؟ یہ سب ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں کہ قدرت کو امن وچین پسند ہے۔ جب ہر چیز اپنے اپنے انداز میں توازن کے ساتھ چلتی ہے تو دنیا کتنی حسین لگتی ہے۔
اب ایک اور منظر کا تصور کریں۔ اسکول کی چھٹی ہوئی ہے۔ بچے خوشی خوشی باہر نکل رہے ہیں۔ اچانک دو بچے معمولی سی بات پرجھگڑنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے بچے وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ہنسی غائب ہو جاتی ہے اور ماحول بوجھل ہو جاتا ہے۔ پھر ایک سمجھ دار بچہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ دونوں دوستوں کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے:’’ہم دوست ہیں، اگر ہم ایک دوسرے کو معاف کر دیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘دونوں بچے مسکرا کر ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ چند لمحوں پہلے کا شور قہقہوں میں بدل جاتا ہے۔
یہی ہے امن اوربھلائی کی طاقت۔ جی ہاں !امن کسی خزانے کا نام نہیں ہے، نہ یہ بڑے بڑے دعووں سے آتا ہے۔ امن تو ہمارے اچھے اخلاق، نرم لہجے، سچی بات، دوسروں کی مدد کرنے اور معاف کر دینے سے پیدا ہوتا ہے۔
گھر وہ پہلی جگہ ہے جہاں امن کی تعلیم ملتی ہے۔ جب والدین محبت سے بات کرتے ہیں، بہن بھائی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور گھر میں عزت و احترام کا ماحول ہوتا ہے تو بچے بھی یہی خوبصورت عادتیں اپناتے ہیں۔
سکول بھی امن کی ایک خوبصورت درسگاہ ہے۔ وہاں مختلف شہروں، خاندانوں اور مزاج کے بچے اکٹھے ہوتے ہیں۔ سب ایک ہی کلاس میں بیٹھ کر علم حاصل کرتے ہیں۔ اگر ہر بچہ صرف اپنی ہی بات منوانا چاہے تو کبھی امن قائم نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب سب ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، برداشت کرتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں توسکول ایک خوشیوں بھرا باغ بن جاتا ہے۔
اسلام ہمیں امن، محبت اور رحمدلی کا درس دیتا ہے۔ سلام کرتے وقت ہم دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں کہ آپ پر سلامتی ہو۔ ذرا سوچیے! ہمارا روزمرہ کا سلام بھی امن کا پیغام ہے۔ اگر ہم سلام کو صرف الفاظ نہیں بلکہ اپنے کردار کا حصہ بنا لیں تو ہمارے اردگرد کا ماحول خوبصورت ہوسکتاہے۔
آج کی دنیا میں محبت بانٹنا اصل بہادری ہے۔ سچا وہ نہیں جو دوسروں کو ہرا دےبلکہ وہ ہے جو اپنے غصے پر قابو پا لے، معاف کرنا جانتا ہو اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔
دنیا کے تمام بچے ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ کھیلنا چاہتے ہیں، پڑھنا چاہتے ہیں، اپنے والدین کے ساتھ خوش رہنا چاہتے ہیں اور ایک روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ ان خوابوں کی حفاظت صرف امن ہی کر سکتا ہے۔
اسی لیے ہر سال 21 ستمبر دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ آئیں، نفرت کے بجائے محبت، جھگڑے کے بجائے بات چیت اور دشمنی کے بجائے دوستی کو فروغ دیں۔
یاد رکھیے! ایک چھوٹی سی مسکراہٹ، ایک اچھا لفظ، ایک سچا معافی نامہ اور ایک نیک عمل دنیا کو پہلے سے بہتر بنا سکتا ہے۔ شاید آپ سوچ رہے ہیں کہ ہم تو بچے ہیں، ہم دنیا میں امن کیسے لا سکتے ہیں؟
اس کاجواب بہت آسان ہے۔آپ اپنے دوست سے لڑائی نہ کریں، کسی کو تنگ نہ کریں، سچ بولیں، اپنی باری کا انتظار کریں، کمزور ساتھی کی مدد کریں، درخت لگائیں، جانوروں پر رحم کریں، اپنے استاد اور والدین کا احترام کریں اور ہر روز کم از کم ایک ایسا کام کریں جس سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے۔ یقین کریں امن کا سفر یہیں سے شروع ہوجائے گا۔
آئیں! اس عالمی یومِ امن پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، غصے کے بجائے برداشت اور لڑائی کے بجائے دوستی کا راستہ اختیار کریں گےکیونکہ آج کا امن پسند بچہ ہی کل کا بہترین شہری، بہترین رہنما اور بہترین انسان بنے گا۔
آئیں!’’ہم سب مل کر امن کے سفیر بنیں ،تاکہ ہماری مسکراہٹوں سے ایک روشن ،محفوظ اورخوشحال دنیا آبادہوسکے۔‘‘
امن کے سفیر
Zohra Naqvi · 01 Sep 2026, 12:00 AM
Hial For Kids Urdu
امن کے سفیر
Z
Zohra Naqviکالم نگار اور تجزیہ کار
01 Sep 2026, 12:00 AM
منٹ مطالعہ
36 مناظر
Z
مصنف کے بارے میں
Zohra Naqvi
✔no-email@gmail.com
مجموعی تشخیص
0.0 سے باہر 50 درجات
آپ کی تشخیص
براہ کرم لاگ ان کریں تاکہ درجہ بندی کر سکیں
تبصرے (0)
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

