’’ہینڈزاپ! اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں فائر کر دوں گا!‘‘ 
حسن نے صوفے کے پیچھے چھپ کر اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پلاسٹک کی بندوق سیدھی کی اور اپنے خیالی دشمن کو للکارا۔ وہ سر پر اخبار سے بنا ہوا فوجی ہیلمٹ پہنے ہوئے تھا اور اس کا چہرہ جوش سے سرخ ہو رہا تھا۔
اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور اس کی بڑی بہن زارا اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا۔ حسن کی یہ حالت دیکھ کر زارا کی ہنسی چھوٹ گئی۔ 



’’کیا بات ہے کیپٹن حسن؟ آج کس محاذ پر جنگ لڑی جا رہی ہے؟‘‘ زارا نے اپنا لیپ ٹاپ میز پر رکھتے ہوئے پوچھا؟
حسن نے اپنی پلاسٹک کی بندوق نیچے کی اورکہنے لگا:’’میں چھ ستمبر کے لیے سکول کا پروجیکٹ بنا رہا ہوں۔ سب بچوں نے ٹینک اور جنگی جہاز بنائے ہیں۔ میں بھی ایک بڑا سا گتے کا ٹینک بنانا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے بن ہی نہیں رہا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ابھی بڑا ہو جاؤں، وردی پہنوں اور سرحد پر جا کر ملک کا دفاع کروں۔‘‘
زارا نے پیار سے حسن کو اپنے پاس بلایا اور بولی:’’ملک کا دفاع کرنے کے لیے صرف سرحد پر جانا یا ٹینک چلانا ضروری نہیں ہے؟‘‘
حسن نے حیرت سےکہا’’تو اور کیا؟ جنگ تو ہتھیاروں سے ہی لڑی جاتی ہے ناں۔‘‘
زارا نے مسکرا کرپوچھا:’’بالکل.... لیکن آج کے دور میں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ دیگرذرائع بھی ضروری ہیں۔ میں بھی ایک سپاہی ہوں اور یہ لیپ ٹاپ میرا ہتھیار ہے۔‘‘
حسن سمجھ نہ سکا۔’’آپ کیسے سپاہی ہو سکتی ہیں؟ آپ توکمپیوٹرانجینئر ہیں۔ آپ کا دشمن کون ہے؟‘‘
زارا نے سنجیدگی سے جواب دیا:’’میرا دشمن وہ ہیکر ہے جو ہمارے ملک کے کمپیوٹر سسٹم کوہیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہمارے کمپیوٹر خراب ہو جائیں تو پورا ملک رک سکتا ہے۔ میں اور میرے جیسے کئی نوجوان دن رات سائبر سکیورٹی کے ذریعے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ آج کے دور میں سرحدوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی دنیا کا دفاع بھی بہت ضروری ہے۔‘‘
اتنے میں ان کے ابو بھی کمرے میں آ گئے۔ انہوں نے زارا کی بات سن لی تھی۔ وہ ایک ٹیچر تھے۔ ابو نے حسن کے سر پر ہاتھ رکھا اورکہنے لگے:’’تمہاری باجی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ آج کی جنگیں بری، بحری اور فضائی میدانوں کے ساتھ ساتھاانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔‘‘ حسن نے اپنا کاغذی ہیلمٹ اتارا اورابو کی طرف دیکھ کر پوچھا:’’تو پھر میرے جیسا چھوٹا بچہ اپنے ملک کا دفاع کیسے کر سکتا ہے؟‘‘ 
ابو صوفے پر بیٹھ گئے اور انہوں نے حسن کو سمجھانا شروع کیا:’’بیٹا، آج کے دور میں دفاع کے بہت سے طریقے ہیں۔ میں تمہیں طریقے بتاتا ہوں جو تم آج سے ہی شروع کر سکتے ہو۔‘‘
’’سب سے پہلاہے سچائی کا دفاع۔ آج کل دشمن جھوٹی خبریں پھیلارہا ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ایسی خبریں آتی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو ڈرانا یا آپس میں لڑانا ہوتا ہے۔ اگر تم کوئی بھی خبر سچائی جانے بغیر آگے نہیں پھیلاتے تو دراصل تم جھوٹ کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہوتے ہو۔‘‘
حسن نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’دوسراہے معیشت کا دفاع۔ معیشت کا مطلب ہے ہمارے ملک کا سرمایہ۔ جب تم اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزیں خریدتے ہو، تو تم اپنے ملک کے کارخانوں اور مزدوروں کی مدد کرتے ہو۔ اس طرح ہمارا ملک امیر اور مضبوط ہوتا ہے۔ ایک مضبوط ملک کو دشمن کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔‘‘
’’تیسرا طریقہ ہے ماحول کا دفاع۔ ہمارے ملک کو اس وقت خطرناک بیماریوں، گندگی اور گرمی کی شدت کا سامنا ہے۔ جب تم گلی میں کچرا پھینکنے کے بجائے اسےکوڑے دان میں ڈالتے ہو، یا جب تم ایک پودا لگاتے ہو تو تم اپنے ملک کو بیماریوں اور گرمی سے بچاتے ہو۔ یہ بھی ایک بہت بڑاکام ہے۔‘‘
حسن کی آنکھوں میں اب چمک آ گئی تھی۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کے بند دماغ کی کھڑکیاں کھل گئی ہوں۔ اس نے اپنی پلاسٹک کی بندوق کو صوفے پر رکھ دیا اورکہنے لگا:’’اور اگر میں دل لگا کر پڑھوں، تو....؟‘‘
ابو نے خوش ہو کر حسن کو گلے لگا لیا اورکہا:’’ایک تعلیم یافتہ قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ تمہارا قلم، تمہاری سچی باتیں اور تمہاری اچھی عادتیں ہی تمہارے اصل ہتھیار ہیں۔‘‘
حسن اپنی جگہ سے اُٹھا اورکمرے کی طرف بھاگتے ہوئےکہنےلگا: 
’’مجھے اپنےپروجیکٹ کا آئیڈیا آگیا۔‘‘
اگلے دن سکول میں یومِ دفاع کی مناسبت سے ایک نمائش تھی۔ پورا ہال بچوں کے بنائے ہوئے ٹینکوں، جہازوں اور خندقوں کےماڈلز سے بھرا ہوا تھا۔ پرنسپل صاحب بچوں کے پروجیکٹ دیکھ رہے تھے۔ جب وہ حسن کی میز کے پاس آئے تو حیران رہ گئے۔
اس نے ایک بڑی سی ڈھال بنائی ہوئی تھی۔ اس ڈھال کو اس نے چار حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک حصے پر ایک قلم اور کتاب بنی تھی، دوسرے حصے پر ایک ہرا بھرا درخت، تیسرے حصے پر ایک کمپیوٹر اور چوتھے حصے پر ایک ڈسٹ بن بنی ہوئی تھی جس میں کچرا ڈالا جا رہا تھااوپرچھوٹےحروف میں لکھا تھا:’’ ہم سب وطن کےرکھوالے ہیں۔‘‘
پرنسپل صاحب مسکرائے ،حسن پورے اعتماد سےکہنے لگا:’’ٹینک اور جہاز بنانے اور چلانے کے لیے ہماری بہادرا فوج موجود ہیں۔ لیکن آج کے دور میں ہم سب کومحافظ بننا ہے۔ میری یہ ڈھال بتاتی ہے کہ آج کا دفاع ایسےہوگا۔‘‘
’’ہم علم حاصل کر کے جہالت کودوربھگائیں گے۔ ہم پودے لگا کر گرمی اور آلودگی ختم کریں گے۔ ہم سچ بول کر جھوٹی خبروں کاخاتمہ کریں گے۔ ہم اپنے ماحول کو صاف رکھ کر بیماریوں کےخلاف لڑیں گے۔ ملک کا دفاع صرف سرحد پر نہیں بلکہ یہ گلی، محلے، سکول اور گھر کے اندر بھی ہوتا ہے۔‘‘
پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ سب بچے اور اساتذہ حسن کی باتیں غور سے سن رہے تھے۔ پرنسپل صاحب خوش نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حسن کوشاباش اور اس کے کندھے پر تھپکی دی۔
’’تم نے بہت بڑی باتیں کی ہیں۔ آج تم نےسب پر دفاع کا اصل مطلب واضح کیا ہے۔‘‘ 
یہ سن کرپورے ہال میں تالیاں گونجنے لگیں۔ حسن کا چہرہ خوشی سےتمتمااُٹھا۔ آج اسے پلاسٹک کی بندوق اورکاغذ کے ہیلمٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اپنے فرض کو ایمانداری سے پورا کرنا ہی وطن سے سچی محبت ہے۔