”ہواؤں میں اڑتا ہوا روشنی کاایک گولہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ رات کے گہرے اندھیروں میں اس کی سرخ اور سنہری چمک دور دور تک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ پھر اچانک اس آگ نما گولے کا رخ زمین کی جانب ہوا، اگلے ہی لمحے قریبی علاقہ دھماکوں سے گونج اُٹھا۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب گھروں سے نکل آئے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ ہر چہرے پر حیرت تھی۔ پھر کھیتوں کی سمت سے شورکی آواز سنائی دی تو گائوں کے سبھی لوگ اس شور اور اٹھتے ہوئے دھوئیں کی جانب دوڑ پڑے۔“

بابا جان کہانی سناتے ہوئے رکے تو عائشہ نے بے تابی سے پوچھا:”بابا جان! بتائیے ناں، وہاں کیا ہوا تھا؟“ اس کی بے تابی دیکھ کر بابا جان مسکرائے اور کہانی آگے بڑھانے لگے۔
”ہاں، تو بچو! کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ روشنی کا وہ گولہ دراصل دشمن ملک کا جنگی جہاز تھا جسے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے مار گرایا تھا۔ یہ گائوں کے کھیتوں میں گرا تھا۔ جیسے ہی گائوں کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے اپنے اپنےگھروں سے نکل آئے تھے۔“
”بابا جان! کیا یہ سب آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؟“ عثمان نے حیرت سے پوچھا۔
”نہیں بیٹا! یہ منظر میں نے نہیں، بلکہ آپ کے داداجان نے دیکھاتھا۔“ ابو جان نے مسکراتے ہوئے کہا:”داداجان 1965ء کی جنگ کے دوران ایک سپاہی تھے اور یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے۔“
”اس کا مطلب کہ دادا جان اس وقت اسی گائوں میں موجود تھے۔“ عائشہ نے دماغ لڑایا تو بابا جان مسکراتےہوئے بولے:”نہیں بیٹی! آپ کے داداجان کی ڈیوٹی اس شہر میں ضرور تھی، گائوں اس سے کچھ فاصلے پرتھا مگر جیسے ہی آرمی کودشمن کا جہاز گرنے کی خبر ہوئی، تو متعلقہ چھائونی کے آفیسرزاپنے جوانوں کے ساتھ فوراَ موقع پر پہنچ گئے جن میں تمہارے داداجان بھی شامل تھے۔“
”بابا جان! کیا جنگی جہاز کا پائلٹ بھی جہاز کے ساتھ ہی آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا؟“ عثمان نے پوچھا۔
”نہیں بیٹا! دشمن پائلٹ نے جہاز گرنے سے قبل ہی پیراشوٹ سے زمین پرچھلانگ لگا دی تھی۔ اتنا توسبھی کو علم تھا کہ وہ کہیں زیادہ دور نہیں اترا ہوگا، پھر ہوا بھی ایسا ہی، آپ کے داداجان اور آرمی کے دیگرجوانوں نے اس علاقے میں کچھ دیرسرچ آپریشن کیا تو پائلٹ زخمی حالت میں نہر کے ساتھ قریبی جھاڑیوں سے گرفتار ہوگیا۔“
”پھرتو ہماری آرمی نے اسے بھی اُڑا دیا ہوگا؟“ عائشہ نے ناسمجھی سے سوال کیا تو بابا جان کہنے لگے: ”جب دشمن پائلٹ کو پاک فوج کے جوانوں نے گرفتار کیا تو وہ زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیاد ہ خوف زدہ بھی تھا۔ اس کے بازو سےلہو بہہ رہا تھا۔ گاؤں کے کچھ لوگ غصے میں تھے کیونکہ دشمن نے ان کے وطن پرحملہ کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس پائلٹ کو نقصان پہنچاتے، تمہارے دادا جان نے سب کو پیچھے ہٹا کر پائلٹ کو بانہوں سے پکڑا، پھر اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے پانی پلایا اور اس کی مرہم پٹی کروائی۔“
”ہائیں! لیکن باباجان! وہ تو دشمن تھا، اس کے ساتھ اتنی رحمدلی کیوں؟“ عائشہ نے حیرانی سے پوچھاتوبابا جان نرمی سے کہنے لگے: ”دیکھو بیٹی!جنگ کے کچھ اصول ہوتے ہیں، ہم نہتوں اور زخمیوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ یہ ہمارا دین کہتاہے اور اصل بہادری بھی اسی کا نام ہے۔ صرف طاقت دکھانا ہی بہادری نہیں ہے بلکہ طاقت کے باوجود رحم اورانصاف کرنے کا نام بہادری ہے۔“ بابا جان نے بتایا۔امی جان بھی قریب بیٹھ کر گفتگو سن رہی تھیں۔ اسی دوران بابا جان نے اپنی بات آگے بڑھائی:”بچو!صرف تمہارے دادا جان ہی نہیں، 1965ء کی جنگ میں پوری قوم ایک مضبوط دیوار بن گئی تھی۔ فوجی سرحدوں پر لڑ رہے تھے اورعوام ان کے لیے کھانا، پانی اور ضروری سامان پہنچا رہے تھے۔ ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے ساتھ محاذ پر بھیجا۔ کئی بہادر سپاہیوں نے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ انہی شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔“ کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ عثمان اور عائشہ دونوں شہدائے پاکستان کے بارے میں سوچنے لگے۔ایسے میں بابا جان کی آواز دوبارہ گونجی:”ان شاء اللہ میرا بیٹا بھی بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے گا۔“ باباجان نے عثمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو امی جان کہنے لگیں:”جی نہیں، اب آئی ٹی کا دورہے، میرا بیٹا تو آئی ٹی انجینئربنے گا، کیوں عثمان بیٹا؟“ امی جان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عثمان کودیکھا۔
”لیکن امی جی! باباجی! یہ فیصلہ توعثمان بھائی کو خود کرنا چاہیے ناں!“ عائشہ نے کہا تو امی ابو دونوں نےمتجسس نگاہوں سے عثمان کی جانب دیکھا جو ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا۔ عثمان شرارتی انداز میں کھانسا،پھرگویا ہوا: ”بابا جان! امی جان! دیکھیے، دنیا ترقی کرگئی ہے۔ ظاہر سی بات ہے 1965ء کے حالات میں اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اب پاک فوج کو صرف اگلے محاذوں پر لڑنے والے جوان ہی نہیں چاہئیں بلکہ انہیں، ڈاکٹرز،انجینئر، سائنس دان ،آئی ٹی ماہرین گویا زندگی کے ہرشعبے سے محبِ وطن جوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ میرا فیصلہ سننا چاہتے ہیں کہ آگے چل کر میں کس شعبےمیں جائوں گا؟ تو میرا جواب ہے کہ میں مستقبل میں آرمی کو بطور آئی ٹی انجینئرجوائن کرنا پسند کروں گا۔“ عثمان نے جواب دیا تو امی اور بابا جان دونوں کے چہرے کھل اُٹھے۔
”چھکاعثمان بھائی!ہاہاہا۔۔۔آپ نے تو امی جان اور ابو جان دونوں کے خوابوں کی لاج رکھ لی۔ مجھے پہلے ہی علم تھا کہ بھائی کا جواب یہی ہوگا کیونکہ بھائی کو فوجی وردی بھی پسند ہے اور کمپیوٹر کی دنیا بھی۔“عائشہ نے خوش ہو کر کہا۔
”واہ عثمان بیٹا! تم نے تو مجھے حیران کردیا، مجھے تم پر فخر ہے۔“ بابا جان نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں کہا:’’اب پھرمیری بیٹی کو بھی چاہیے کہ اپنے خواب ہم سے شئیر کرے کہ مستقبل میں وہ کیا کرنا چاہتی ہے؟‘‘ بابا جان نےعائشہ کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر کہا توعائشہ جلدی سے اپنے کمرے سے ڈائری اٹھا لائی: ”دیکھیے بابا جان! میں اپنے مستقبل کے بارےمیں یہاں بات نہیں کرسکتی۔ پرسوں ہمارےاسکول میں یومِ دفاع کا پروگرام ہونے جارہا ہے۔ اس سلسلے میں یہ تقریرمیں نے خودلکھی اورخودتیارکی ہے۔“ اپنے مستقبل کا ارادہ میں اسی تقریر کے آخر میں بتائوں گی۔“ عائشہ نے کہا تو امی جان کے ساتھ ساتھ باباجان بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ بہر حال انہوں نے بیٹی کے جذبے کوسراہا۔
دو دن بعد اسکول میں یوم ِ شہدا و دفاعِ پاکستان تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ پھر شہدا کے لیے دعاکا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں بچوں نے ملی نغمات پیش کیے۔ عائشہ کی باری آئی تو اس نے ڈائس پر آکر اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ دورانِ تقریر عائشہ نے جوش میں خطاب کرتے ہوئے کہا:”میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ اس قوم اور وطن کی بھی بیٹی ہوں۔ میرے دادا جان پاک آرمی میں تھے۔ انہوں نے وطن کا دفاع کیا۔ میرے بابا استاد ہیں،انہوں نے ہماری اور ہم جیسے کئی نوجوانوں کی درست تربیت کرکے ان کے دلوں میں وطن پاکستان کی محبت ڈالی ہے۔ اس وطن نے ہمیں بہت کچھ دیاہے، اب وقت ہے وطن کی مٹی کا قرض اتارنے کا۔ چنانچہ میرا بھائی جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے ذریعےاپنے پیارے دیس کے دفاع کا ارادہ کرچکا ہے جبکہ میں۔۔۔ میں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کے دفاع میں بھی حصہ لوںگی۔عائشہ نے بات ختم کی تو ہال تکبیر کے نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس نے اسٹیج سے نیچے آتے ہوئے دیکھا کہ سامنے والی قطار میں بیٹھے اس کے بابا جان کی آنکھوں میں نمی آچکی تھی۔ یہ دراصل خوشی کے آنسو تھے جو اپنی نئی نسل کے دلوں میں وطن کی محبت کو پھلتا پھولتا دیکھ کر چہرے پر عیاں ہوچکے تھے۔ بابا جان نے اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنا ہاتھ بیٹی کے سر پر رکھ دیا۔ وطن کی محبت اور اس کے لیے قربانی کا جذبہ اب سینہ بہ سینہ نئی نسل کو منتقل ہوچکا تھا۔
ہال میں چاروں طرف سبز ہلالی پرچم اپنی بہار دکھارہے تھے۔اسی وقت بلند آواز میں ملی نغمہ ہال کی دیواروں سے ٹکرانے لگا۔ لوگ نغمے پر سر دھنتے ہوئے ساتھ ساتھ اسے گنگنائے جارہے تھے:
مِرے فوجی جواں جرأتوں کے نشاں
مِرے اہلِ قلم عظمتوں کے نشاں
مِرے محنت کشوں کے سنہری بدن
چاند میری زمین پھول میرا وطن

