چھ ستمبر کے دن احمد اپنے دادا کے ساتھ ساحلِ سمندرپر موجود تھاکہ اسے ایک دم تالیوں کا شور سنائی دیا۔ وہ چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ان کے قریب موجود لوگ آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ احمدکو تین جنگی طیارےاپنی طرف آتےہوئےدکھائی دیے۔ جہاز کی کڑک دار آوازسے احمد ڈر کر اپنے داداکے پیچھے چھپنے لگا تو دادا جان اس کی ہمت بندھاتے ہوئےپوچھنے لگے:’’کیا ہوا بیٹا؟تم ڈر کیوں رہے ہو؟ یہ تو ہمارے محافظ ہیں۔‘‘



یہ سن کراحمد کا ڈرکچھ کم ہواتو دادا جان ایک بارپھر کہنے لگے:’’آؤ! میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ آج6 ستمبرہے۔ اس دن کی یاد میں پورے ملک میں کئی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ پاک فضائیہ کے یہ طیارے بھی اسی کا حصہ ہیں جو آج فضا میں بلند ہو کر ہمیں یہ یاددہانی کرواتے ہیں کہ 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں انہوں نے وطن کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ 
احمد نے جب یہ بات سنی تو اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دادا جان اسے مزید بتانے لگے:’’1965 میں دشمن نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کردیا تھا جس کے جواب میں افواجِ پاکستان نے اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ ہمارے بہادرجوان دشمن کے آگے ڈٹ گئے، دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے ہزیمت سے دوچار کر دیا۔ ہماری تینوں افواج نے دشمن کو اس کے ناپاک عزائم کے حصول میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔‘‘ 
’’تینوں مطلب۔‘‘ احمد چونکا۔
’’اس سے مرادیہ ہےکہ ہماری تین افواج ہیں یعنی بری ،بحری اور فضائی فوج۔ بری فوج زمین پر رہتے ہوئے دشمن کے حملوں کو ناکام بناتی ہے، بحری فوج سمندروں کی نگرانی اور دفاع کرتی ہے جبکہ فضا سے ہونے والے ہر حملے کو ناکام بنانا فضائی افواج کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ‘‘ 
’’ تو پھر ہم وہ جنگ جیت گئے نا؟‘‘ احمد نے آخری سوال کیا تو دادا جان کہنے لگے:’’بالکل!اللہ تعالیٰ کی مدد اور پوری قوم کے اتحاد و یکجہتی کی بدولت ہم اس کٹھن امتحان میں کامیاب ہوئے اور فتح ہمارا مقدر بنی۔ اب ہم ہر سال 6ستمبر کو انہی لمحات کو یاد کرکے یہ عہد کرتے ہیں کہ اگر آئندہ کبھی دشمن نے ہم پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کی تو ہم اسے بھرپور جواب دیں گے۔ پچھلے سال آپریشن بنیانٌ مرصوص (معرکۂ حق )میں بھی ہم نے اسی بہادری کا ثبوت دیا اور ایک اور فتح ہمارا مقدر بنی۔ 
واہ! احمد خوشی سے اچھلا اور کہنے لگا:’’میں بھی تعلیم حاصل کر کے فوجی بنو ں گا اور ملک کی حفاظت کروں گا۔‘‘
’’کیوں نہیں؟ میرابہادر بیٹا۔ انشاءﷲ! ایک دن تم بھی اس وطن کے دفاع اور سلامتی میں اپنا کردار ادا کرو گے۔‘‘دادا جان نے اسے دعا دی اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ 
 اسی وقت پاک فضائیہ کا ایک طیارہ اوپر سے گزرا تو احمد نے فرط محبت میں اسے سلام پیش کیا۔ دادا جان ملک کے لیے احمد کاجوش و جذبہ دیکھ کر خوش ہوئے اور مستقبل کے اس ننھےسپاہی کو لے کر واپس گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔