نشانِ حیدر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ہے۔ یہ افواجِ پاکستان کے اُن بہادروں کو عطا کیا جاتا ہےجو غیر معمولی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن کی حُرمت پر قربان ہو جاتے ہیں۔ اب تک افواج ِ پاکستان کے 11 بہادروں کو یہ اعزاز مل چکا ہے جن کا تذکرہ آپ کے لہو کو گرما دے گا۔
کیپٹن محمد سرور، شہید
 2پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے کیپٹن محمد سرور 10نومبر1910ء کو سنگھوڑی راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ 27جولائی 1948ء کواُڑی سیکٹر ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
27جولائی کوکیپٹن محمد سرور اپنی کمپنی کے ہمراہ تلپترا پہاڑی پر موجود ایک مضبوط بھارتی دفاعی پوزیشن پر حملہ آور ہوئے۔ دشمن سے صرف 20میٹر کی دوری پر موجود خاردار تار کے باعث پیش قدمی رک گئی۔ دائیں کندھے میں گولی لگنے کے باوجود وہ  اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے اور بذات خود تار کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کی شدید گولہ باری کے دوران وہ نہ صرف تار کاٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ دستی بموں سے دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔ اس دوران دشمن کے حملے کی زد میں آکر جامِ شہادت نوش کیا۔ 



نائیک سیف علی جنجوعہ،شہید
حیدری فورس،18آزاد کشمیر رجمنٹ کے یہ مایہ نازجانباز 23اپریل 1922ء کو کھنڈہار، نکیال، آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے اورمینڈھر سیکٹر مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفاع وطن کی خاطر لڑتے ہوئے 26اکتوبر 1948ء کو شہادت کے رتبے پرفائز ہوئے۔
 نائیک سیف علی جنجوعہ برطانوی فوج کا حصہ رہ چکے تھے۔ یکم جنوری 1948ء کوانہوں نے کشمیر کی آزادی کےلیے بنائی گئی حیدری فورس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے جذبے اور لگن کی بنیاد پرانہیں نائیک کا عہدہ دے کر پلاٹون کمانڈر مقرر کر دیا گیا۔ 26اکتوبر 1948ء کو انہوں نے قلیل تعداد اور محدود وسائل کے باوجود پیر کلیوا پہاڑی پر واقع اہم پوسٹ پر بھارتی حملوں کا پامردی سے دفاع کیا۔ وہ آخری دم تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے، مادرِوطن کے دفاع کو یقینی بنایا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ 



میجر طفیل محمد، شہید
میجر طفیل محمد22جولائی 1914ء کو طفیل آباد، ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ 13پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ ایسٹ پاکستان رائفل میں فرائض انجام دیتے ہوئے 7اگست 1958ء کو لکشمی پور سیکٹر مشرقی پاکستان میں شہید ہوئے۔
ہندوستانی سرحد سے متصل لکشمی پور کا علاقہ مشرقی پاکستان میں ہندوستانی اشیاء کی سمگلنگ کےلیے استعمال ہو رہا تھا۔ اگست 1958ء میں ہندوستانی فوج نے سمگلرز کو تحفظ دینے کے لیے لکشمی پور پر قبضہ کر لیا۔ میجر طفیل محمد کو یہ علاقہ واگزار کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔7اگست کی رات انہوں نے ایک غیر متوقع سمت سے حملہ کر کے دشمن کو حیران کر دیا۔ حملے کی قیادت کے دوران وہ دشمن کی مشین گن فائر کی زد میں آ کر زخمی ہوگئے۔ اسی اثناء میں ان کی نظر ایک ہندوستانی فوجی افسر میجر دیو براہمن پر پڑی جو ایک پاکستانی جوان پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر میجر دیو کو اپنی ٹانگوں سے الجھا کر نیچے گرا لیا اور اسٹیل ہیلمٹ سے اس پر کاری ضرب لگائی۔ تاہم جنگی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے انہوں نےاسے جنگی قیدی بنانے کا حکم دیا۔ شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے سے قبل میجر طفیل محمددشمن کو لکشمی پور سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔
 
میجر عزیز بھٹی،شہید
میجرعزیز بھٹی کی یونٹ 17پنجاب رجمنٹ تھی۔ وہ 6جنوری 1928ء کو لادیاں گجرات میں پیدا ہوئے۔ 12ستمبر 1965ء کو واہگہ سیکٹر میں شہادت پائی۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران وہ واہگہ سیکٹر کے علاقے برکی میں بطور کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔ انہوں نے بی آر بی نہر پر دشمن کے حملے کو روکنے کےلیے اپنے دفاع کو منظم کیا۔انہوں نے مسلسل پانچ دن دشمن کے متعدد حملوں کو پسپا کیا اور بی آر بی نہر عبور کرنے والے واحد پل پر قابض دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔ 12ستمبر کو میجر عزیز بھٹی نے دشمن کے آگے بڑھتے بکتر بند اور پیدل دستوں پر گولہ باری کروا ئی جس کے نتیجے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔ انہوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا۔



پائلٹ آفیسر راشد منہاس،شہید
فائٹر کنورژن یونٹ نمبر2 سے تعلق رکھنے والے پاک فضائیہ کے جانباز پائلٹ آفیسر راشد منہاس 17فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 20اگست 1971ء کو گوٹھ احمد شاہ سجاول میں شہادت پائی۔
 20اگست 1971ء کووہ معمول کی تربیتی پرواز پر ٹیک آف کرنے کےلیے رن وے پر آئے تھے کہ اتنے میں ان کا بنگالی انسٹرکٹر پائلٹ مطیع الرحمٰن زبردستی کاک پٹ میں داخل ہوگیا اور ٹیک آف کے بعداس نے طیارے کا رخ ہندوستان کی طرف کردیا۔ طیارہ ہندوستانی سرحد سے چالیس میل کی دوری پر تھا کہ راشد منہاس نے مزاحمت کرتے ہوئے ایک پرُ وقار راستے کا انتخاب کیااور طیارےکو سرحد سے 32میل قبل ہی زمین سے ٹکرا کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا تے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ 

میجر محمد اکرم،شہید
 4اپریل 1938ء کو نکا خالص پورجہلم میں پیدا ہوئے۔ 4فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور 5دسمبر 1971ء کو ہلی سیکٹر مشرقی پاکستان میں شہادت پائی۔
1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میجر محمد اکرم مشرقی پاکستان میں ہلی کے محاذ پرایک کمپنی کی قیادت کر رہے تھے۔ دشمن کے ایک بریگیڈ نے ان کی کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑنے کے لیے متعدد حملےکیےجنہیں انہوں نے مسلسل چودہ دن تک ناکام بنایا۔ 5دسمبر کو چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں آنے کے بعد انہوں نے دستیاب گولہ بارود کے ذخیرے سے دشمن پر یکبارگی حملہ کیا اور اسے بھاری نقصان پہنچایا۔ وہ دفاعِ وطن کے اس معرکے میں شہید ہوگئے۔ ان کی بے مثال جرأت، دلیری اور بے باکی کا اعتراف دشمن کے کمانڈر ان چیف نے بھی کیا۔ 



میجر شبیر شریف،شہید
ان کی یونٹ 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ ہے۔ وہ کنجاہ ضلع گجرات میں 28اپریل 1943ء کو پیدا ہوئے اور 6دسمبر 1971ء کو سلیمانکی سیکٹر میں شہادت پائی۔ 3دسمبر 1971ء کو انہیں سلیمانکی ہیڈ ورکس کے بالمقابل دشمن کی حدود میں واقع ایک بلند ٹیلے پر قبضہ کرنے کا حکم ملا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کی بارودی سرنگوں کو عبور کر کے سبونہ نہر کے پار جا پہنچےاور دشمن کو مضبوط خندقوں سے نکل کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران 43بھارتی فوجیوں کو ہلاک، 38کو جنگی قیدی اور 4 ٹینک تباہ کر دئیے۔ 5اور 6دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیر نے 4 جاٹ رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر میجر نارائن سنگھ کو دست بدست لڑائی میں ہلاک کیا۔ اپنے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بالآخر میجر شبیر شریف شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوگئے۔

لانس نائیک محمد محفوظ،شہید
ان کا تعلق 15 پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ 25اکتوبر 1944ء کو پنڈ ملکاں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور 18دسمبر 1971ء کو واہگہ اٹاری سیکٹرلاہورمیں شہادت پائی۔17دسمبر کی رات ہدف کے حصول کے دوران ان کی کمپنی کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن کی گولہ باری کے سبب ان کی لائٹ مشین گن تباہ ہو گئی۔ انہوں نے ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھالی اور دشمن پر کڑاوار کیا۔ وہ مسلسل آگے بڑھتے رہے حتیٰ کہ دشمن کے مورچے تک پہنچ گئے۔ وہاں موجود دشمن کے ایک سپاہی نے سنگین کے وار کرکے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی جرأت اور دلیری کا اعتراف ہندوستانی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے ان الفاظ میں کیا:’’میں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں ایسا جرأت مند انسان نہیں دیکھا۔ اگر وہ میری فوج کا حصہ ہوتے تو میں ان کا نام بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے تجویز کرتا۔‘‘



سوار محمد حسین،شہید
سوار محمد حسین کا تعلق 20لانسرز سے تھا۔ 18 جنوری 1949ء کو ڈھوک پیربخش راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور 10دسمبر 1971ء کو شکر گڑھ سیکٹر میں شہید ہوئے۔
1971ء کی جنگ میں انہوں نے بطور اسلحہ بردار ٹرک ڈرائیور شکر گڑھ سیکٹر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مورچوں تک گولہ بارود پہنچانےکے علاوہ کئی بار لڑاکا گشت کی کارروائیوں میں بھی رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے۔7دسمبر کو اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کو گدر پور گائوں سے بھگایا جبکہ گجگال گائوں کی جانب دشمن کی پیش قدمی سے متعلق اہم معلومات بھی اپنے یونٹ ہیڈ کوارٹر کو فراہم کیں۔ ان کی نشاندہی کے نتیجے میں ہندوستان کے 16ٹینک تباہ کر دیے گئے۔ اس دوران وہ دشمن کے ٹینک پر نصب مشین گن فائر کی زد میں آ کر شہید ہوگئے۔



کیپٹن کرنل شیر خان،شہید
کیپٹن کرنل شیر خان 27سندھ رجمنٹ کے مایہ ناز افسر تھے۔انہوں نے رضاکارانہ طور پر 12ناردرن لائٹ انفنٹری میں شمولیت اختیار کی۔ وہ یکم جنوری 1970ء کو فوجون آباد ،صوابی میں پید اہوئے اور 5جولائی 1999ء کو کارگل کی جنگ کے دوران گلتری سیکٹر میں شہید ہوگئے۔ 
5جولائی 1999ء کو کیپٹن کرنل شیرخان اور ان کے 14ساتھیوں کو کاشف اور وکیل پوسٹ کے درمیان موجود مزاحمتی ناکہ بندی کو ختم کرنے کا مشن سونپا گیا۔ حملے کی غرض سے آگے بڑھتی دشمن کی سپاہ دیکھ کرانہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا۔اس جرأت مندانہ معرکے میں وہ دشمن کی فائرنگ کی زد میں آگئے اور 7ساتھیوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کیا۔

حوالدار لالک جان ،شہید
ان کا تعلق 12ناردرن لائٹ انفنٹری سے تھا۔ یکم اپریل 1967ء کو ہندوریاسین وادی غذر (گلگت بلتستان) میں پیدا ہوئے۔7جولائی 1999ء کو کارگل کے محاذ پرجام شہادت نوش کیا۔ مئی 1999ء میں جب دشمن ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، حوالدار لاک جان نے اگلے مورچوں پر لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ انہوں نے اپنی پوسٹ کا نہ صرف کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 7جولائی کو دشمن سارا دن ان کی پوسٹ پر گولوں سے آگ برساتا رہا اور اسی رات تین مختلف اطراف سے حملہ کر دیا جس کی زد میں آ کر دفاعِ وطن کا عظیم فریضہ سر انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔