صبح کا وقت تھا۔ سورج کی کرنوں نے چھوٹے سے گاؤں کو سنہری روشنی سے بھر دیا تھا۔ پرندے چہچہا رہے تھے اور اسکول کی گھنٹی بجنے والی تھی۔ آٹھ سالہ علی اپنے بستے کو کندھے پر لٹکائے، ہر روز کی طرح گاؤں کے چوک میں لگے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے سامنے رکا، سیدھا کھڑا ہوا اور احترام سے اُسے سلام کیا۔
اس کی دادی یہ منظر روز دیکھا کرتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے مسکرا کر پوچھا:’’بیٹا، تم ہرروز پرچم کو سلام کیوں کرتے ہو؟‘‘



علی نے معصومیت سےجواب دیا:’’دادی جان! یہ ہماری شناخت اور ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کی نشانی ہے۔ یہ ہمارے ماضی ،حال اور مستقبل کا ترجمان ہے۔‘‘
دادی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ انہوں نے علی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:’’بیٹا، وطن سے محبت انسان کی اچھی خوبیوں میں سے ایک ہے۔‘‘
اس دن اسکول میں ٹیچرنے بچوں سے پوچھا،’’تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘
کسی نے کہا:’’ڈاکٹر۔‘‘
کسی نے کہا:’’استاد۔‘‘
کسی نے کہاـ:’’سائنس دان۔‘‘
جب علی کی باری آئی تو وہ اعتماد سے کھڑا ہوا اور بولا:’’میں بڑا ہو کرسپاہی بننا چاہتا ہوں تاکہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرسکوں۔‘‘
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ٹیچر نے مسکراتے ہوئے پوچھا:’’بیٹا، تم سپاہی ہی کیوں بننا چاہتے ہو؟‘‘
علی نے کہا:’’کیونکہ جب ہم آرام سے سورہےہوتے ہیں تو کوئی ہماری خاطر جاگ رہا ہوتا ہے۔ جب ہم عید اپنے گھر والوں کے ساتھ مناتے ہیں تو کچھ سپاہی اپنی عید سرحد پر گزارتے ہیں۔ میں بھی ایسا انسان بننا چاہتا ہوں جو دوسروں کی خوشیوں کی حفاظت کرے۔‘‘ٹیچر کی آنکھوں میں فخر جھلکنے لگا۔
چند دن بعد اسکول کے بچوں کو ایک چھاؤنی کی سیر کروائی گئی۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ سپاہی سخت گرمی میں بھی مشق کر رہے تھے۔ کچھ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ایک سپاہی نے بچوں کو پانی پلایا اور محبت سے کہا:’’تم سب دل لگا کر پڑھو۔ ایک مضبوط ملک مضبوط فوج کے ساتھ ساتھ اچھے، ایماندار اور تعلیم یافتہ شہریوں سے بنتا ہےہم سب اس چمن کے معمارہیں۔‘‘
علی نے حیرت سے پوچھا:’’کیا آپ کو اپنے گھر والوں کی یاد نہیں آتی؟‘‘سپاہی نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر جواب دیا:’’بہت یادآتی ہے۔‘‘
بیٹا میری بھی ایک ننھی بیٹی ہے جو ہر روز مجھے فون پر کہتی ہے:’’ابو! جلدی گھرآ جائیں۔ لیکن جب میں سوچتا ہوں کہ میرے وطن کے لاکھوں بچے سکون سے رہ رہے ہیں، تو میری ہمت اور بڑھ جاتی ہے۔‘‘یہ سنتے ہی علی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
گھر واپس آ کر اس نے اپنی امی سے کہا:’’امی، فوجی بھی تو کسی کے ابو، کسی کے بیٹے اور کسی کے بھائی ہوتے ہیں۔‘‘
امی نے محبت سے جواب دیا:’’بالکل بیٹا۔ اسی لیے ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیےاور ان کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کی قدر کرنی چاہیے جو اپنے ملک اور لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔علی نے دل لگا کر پڑھائی کی۔ ہمیشہ سچ بولااور دوسروں کی مدد کی۔ وہ جانتا تھا کہ وطن کی خدمت، اچھا انسان بن کر کی جا سکتی ہے۔
کئی سال بعد، جب علی نے فوج کی وردی پہنی تو اس کی دادی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ انہوں نے علی کو گلے لگایا اور کہا:’’مجھے تم پر فخر ہے۔‘‘
علی نے مسکرا کر جواب دیا:’’دادی جان، میں نے آپ ہی سے سیکھا تھا کہ وطن سے محبت،اچھے کردار سے ثابت ہوتی ہے۔‘‘ اس دن گاؤں کے تمام بچے علی کے گرد جمع ہو گئے۔ اس نے ان سے کہا:’’اگر تم واقعی اپنےوطن سے محبت کرتے ہو، تودل لگا کر پڑھو، سچ بولو، اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کرو۔ ایک مضبوط قوم اچھے شہریوں سے بنتی ہے۔‘‘ 
بچوں نے ایک ساتھ بلند آواز میں کہا:’’ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کریں گے، محنت کریں گے، سچ بولیں گے اور پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔‘‘ہوا میں لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم ان کے اس خوبصورت وعدے کا گواہ بن گیا۔