جنید اور جواد کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تھی۔ اُن کی والدہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وہ اپنے مرحوم شوہرکے سامنے سرخرو ہوچکی تھیں۔
جنید کے ابو تحریکِ پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔اب جنید کی امی کی نگاہوں کے سامنے برسوں پرانا منظر گھوم رہا تھا کہ جب ان کے خاندان نےپاکستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ انہیں یاد آ رہا تھا کہ آزادی کا اعلان ہوتے ہی فسادات بھڑک اٹھے۔ انہوں نے پاکستان جانے کے لیے رختِ سفر باندھا مگر راستے میں انتہاپسند جتھوں نے مہاجرین سے بھری ٹرین پر حملہ کر دیا۔ قتل و غارت کے اس ہولناک طوفان میں ان کی ایک سالہ بیٹی شہید ہو گئی۔ دونوں میاں بیوی زخمی ہوئےالبتہ جنید اور جواد سیٹ کے نیچے چھپ جانے کی وجہ سے محفوظ رہے۔

آخرکار زخمیوں،میتوں سسکیوں اورآہوں سے بھری ٹرین پاکستان پہنچ گئی۔ لاہورمیں رضاکاروں نے مہاجرین کو سہارا دیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ جنید کے ابو نے کپکپاتے ہاتھوں سے وطن کی مٹی کو اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ اپنے بیٹوں سے کہا:”میرے بچو! ہم نے آزادی کی یہ نعمت بہت ساری قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے، اس کی حفاظت کرنا۔“
یہ الفاظ ادا کرتے ہی جنید کے ابو نے کلمۂ طیبہ پڑھا اورخالقِ حقیقی سے جا مِلے۔ یہ دیکھ کر ان سب پر تو جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ آنسوؤں سے تر چہرے، لیکن دل پاکستان کی محبت سے لبریز تھے۔ اسی دوران جنید کی امی نے عہد کیا:”میں اپنے دونوں بیٹوں کو اس سرزمین کا محافظ بناؤں گی۔ جس آزادی کے لیے ہم نے تن من دھن کی قربانی دی، اس کی آزادی کی حفاظت میں ہمارے بچے بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔“
وہ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اپنے بھائی کے گھر لاہورآگئیں۔ انہوں نے بچوں کو سکول داخل کروادیا۔ دن گزرتے گئے، جنید اور جواد بڑے ہو گئے اور دونوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔
ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہونے سے کچھ دن پہلے جنید اورجواد چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے کہ اچانک انہیں واپس یونٹ پہنچنے کا حکم ملا کیونکہ بھارت نے اسی رات پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔
دونوں بھائی روانگی کے لیے تیار ہوئے تو انہیں رخصت کرنے پورا محلہ جمع ہو گیا۔ سب کے لبوں پر ان کے لیے اور پاکستان کے لیے دعائیں اور دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے کا عزم تھا۔
’’دشمن کو ایسی شکست دینا کہ وہ دوبارہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ نہ اٹھا سکے۔‘‘ایک بزرگ نے کہا۔
” انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا۔آ پ دعا کیجیے۔“ دونوں نے بیک زبان کہا۔
امی نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا اور بولیں:’’جاؤ بچو! اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ میدانِ جنگ میں دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔‘‘
”ہم جان دے دیں گےلیکن وطن کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیں گے۔“ دونوں نے عہد کیا اور اپنے اپنے محاذپر پہنچ گئے۔
پاک فو ج کے جوان دشمن کے ہر حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے اور اس کا یہ غرور خاک میں ملا رہے تھے کہ وہ لاہورجم خانہ میں چائےپیئے گا۔ ہر سپاہی شہادت کی تمنا لیے وطن کے دفاع کےلیے سینہ سپر تھا۔
جنید برکی،ہڈیارہ سیکٹر میں تعینات تھا۔ وہ بہادری سے دشمن کا مقابلہ کر رہا تھا اور ساتھ ہی یہ دہرائے جا رہا تھا:’’جب تک دشمن پسپا نہیں ہو جاتا، میں نہیں رکوں گا۔‘‘وہ پُرعزم تھا۔
اسی دوران اس نے اپنے ایک ساتھی سے دوسرے محاذوں کی خبرلی۔ اس نے بتایا کہ افواجِ پاکستان مختلف محاذوں پر کامیابی سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔ ابھی بات جاری تھی کہ ان کے آفیسر کی آواز گونجی:’’فائر!‘‘
وہ چوکس ہوکر فائرنگ کرنے لگے کہ اسی دوران جنید کے ساتھی کو ایک گولی آلگی۔ کمپنی کو نہر کے دوسرے کنارے پر جانے کا حکم ملا۔ جنید کا ساتھی اتنا زخمی ہو چکا تھا کہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک نظر دیکھا اورکہا:” میری فکر نہ کرو، تم آگے بڑھو اور اپنے وطن کی حفاظت کرو۔“
اس کی بات سن کر جنید آگے بڑھا اور کہنے لگا:”میں تمہیں کسی صورت دشمن کے ہاتھوں میں جانے نہیں دوں گا۔“ اس نے اپنی بندوق سنبھالی اور زخمی ساتھی کو سہارا دے کرمورچے کی طرف بڑھنےلگا۔
اپنے ساتھی کو بحفاظت مورچے تک پہنچا کر جنید واپس پلٹا اور اگلے ہی لمحے ارضِ پاک کا یہ دلیر فرزند دشمن پر بجلی بن کر گرا۔ دشمن کو کئی کاری ضربیں لگائیں۔ اسی دوران دشمن کی طرف سے گولیاں برسنے لگیں۔ وہ ایک گولی کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا لیکن پھر بھی بہادری سے لڑتارہا اور آخر کار وطن کی آن پر قربان ہو گیا۔
کمپنی کے جوانوں نے اپنے شہید ساتھی کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔
۔۔۔
جنگ ستمبر کے دوران جنید کا دوسرا بھائی جواد واہگہ سیکٹر میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اس کی یونٹ کے جوان ٹینکوں کی اوٹ میں دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دشمن کا توپ خانہ ان کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پاک فوج کے یہ بہادر جوان مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔ان کےدل میں صرف ایک لگن تھی کہ اپنی سرزمین کو دشمن کے ناپاک قدموں سے بچانا ہے۔ اس دستے نے دشمن کے تین گاؤں شمشیر پوسٹ، رانیاں اور کاکڑ پر قبضہ کرلیا تھا اور اس کے نعرے امرتسر کی فضاؤں میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔ جواد دشمن کی نقل و حرکت دیکھنے پر مامور کیا گیا تھا۔ وہ دشمن کےبارے میں مفید معلومات حاصل کرتااوراسے اپنی یونٹ کو بھجوا دیتا جس سے بروقت کارروائی کرنا ممکن تھی۔ وہ دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا کہ ایک رات اسے معلوم ہواکہ دشمن اس کی یونٹ پر شب خون مارنے والا ہے۔
یہ سب جان کر جوادنےاسی وقت دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ان کے مورچے کے قریب پہنچا اور بھارتی فوجیوں پر فائر کھول دیا۔ اس اچانک حملے سے دشمن بوکھلا گیا۔ اس نے دشمن کے کئی جوانو ں کو جہنم واصل کیا اور جوابی فائر لگنے سے شہید ہو گیا۔
اگلی صبح اس کی یونٹ پیش قدمی کر کے دشمن کے مورچے تک پہنچی ہی تھی کہ وہاں انہیں جواد اس حالت میں ملا کہ وہ جامِ شہادت نوش کر چکا تھا۔
”ہمیں تم پر فخر ہے۔“ کمانڈر نےاسے سلیوٹ کیااور خراجِ تحسین پیش کیا۔
اپنے بھائی کی طرح جواد بھی جرأت و بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے وطن پر قربان ہوگیا۔
جب ان کی شہادت کی خبر ان کی والدہ کو ملی تو وہ کہنے لگیں:”مجھے فخرہے کہ میرے دونوں بیٹے وطن کی سلامتی کی خاطر شہید ہوئے۔ میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ہماری آزادی کی حفاظت کی ہے۔ اگر میرےاور بیٹے بھی ہوتے تو میں انہیں وطن کی آن پرقربان کردیتی۔“
جنگ ختم ہوچکی تھی۔ دشمن کو ہرمحاذ پر شکست فاش ہوئی کیونکہ جنید اور جواد جیسےبے شمار جوانوں نے وطن کی سلامتی و خود مختاری کو ہمیشہ قائم دائم رکھنے کے لیےاپنے لہو سے چراغ جلائےتھے۔آزادی کی حفاظت کے لیےاپنی جانیں قربان کی تھیں۔
آج بھی جب ماہ ستمبر آتا ہے تو ان بہادروں کی قربانیاں ہمیں یاد آ جاتی ہیں جو خود شہادت سے ہم آغوش ہو گئے مگر وطن کی حرمت و سالمیت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔

