راجہ عبداللہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں ہانگ کانگ میں مقیم تھے۔ وہ ہانگ کانگ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شعبہء تعلیم میں استاد تھے۔ یہ گھرانہ انتہائی سادہ اور وطن کی محبت سے لبریز تھا۔ دیارِ غیر میں ہونے کے باوجود دل وطن کی محبت میں تڑپتا رہتا، یہ محبت بچوں میں گھٹی کی صور ت منتقل کی گئی۔ 
16 اگست 1928:انہی دنوں راجہ عبداللہ کے گھر ننھے مہمان کی آمد ہوئی ، والدین نے گھنگھریالے بالوں والے بچے کا نام عزیز احمد رکھا۔ یہ گھرانہ پہلے دن سے ہی بچے کی اچھی تربیت میں مصروف تھا۔ یہاں تک کہ ابتدائی تعلیم کے دن آ گئے۔ عزیز احمد کو ہانگ کانگ کے ایک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ شب و روز گزر رہے تھے کہ دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے ہانگ کانگ کے حالات خراب ہو گئے۔ 



وطن آمد: راجہ عبداللہ کو اپنے خاندان سمیت وطن واپس آنا پڑا، یہ قیام پاکستان سے قبل کا زمانہ تھا۔ مستقل رہائش کے لیے انہوں نے اپنے آبائی گائوں’’لادیاں‘‘ کا انتخاب کیا۔ کسے معلوم تھاکہ لادیاں (گجرات) کے مضافات میں پرورش پانے والا یہ بچہ ایک دن قوم کے ماتھے کا جھومر بن جائے گا۔ 
1946 .... فوجی کیریئیرکا آغاز: تعلیم مکمل کرنے کے بعد عزیز بھٹی رائل ائیر فورس میں شامل ہوئے اورپاکستان بننے کے بعد پاکستان آرمی میں چلے گئے۔ 
انہوں نے1950 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شاندار کارکردگی دکھائی اوراعزازی شمشیر حاصل کی۔ پاک فوج نے انہیں اعلیٰ فوجی تربیت کے لیےکینیڈا بھیجوادیا۔ 
1952-53 ...کینیڈا کا سفر: عزیز بھٹی کینیڈا کے شہرکنگ سٹون میں واقع مشہور آرمی سٹاف کالج گئے، وہاں دنیا کے بہترین فوجی افسر کورس کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بین الاقوامی کورس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
مختلف زبانوں میں مہارت: انہیں مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق تھا۔ ہانگ کانگ میں قیام کے دوران انہوں نے چینی اور انگریزی سیکھی تھی اور بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہیں جرمن پر بھی عبور تھا۔ انہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ جرمن میں پڑھ رکھا تھا۔ وہ جرمن میں خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کینیڈا میں قیام کے دوران وہ مختلف ممالک کے افسران سے ان ہی کی زبان میں گفتگو کرتے، جس کی وجہ سے پورے کالج میں بے حد مقبول تھے۔ 
میجر عزیز بھٹی کی ڈائری : وہ ڈائری لکھنا پسند کرتے تھے۔ ڈائری میں روزمرہ کی باتوں کے بجائے، اپنے پسندیدہ اقوالِ زریں لکھتے تھےجوحکمت اور فلسفے سے لبریز ہوتے تھے۔ ان کی ڈائری کی منفرد بات یہ تھی کہ اس میں زیادہ تر باتیں جرمن میں تحریر کی جاتی  تھیں۔ 
فنونِ لطیفہ سے دلچسپی : انہیں فنونِ لطیفہ سے بھی دلچسپی تھی۔ مائو تھ آرگن بجانے کا بے حد شوق تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا سازہے جسےبانسری کی طرح منہ سے بجایا جاتا ہے۔ وہ اسے اکثر اپنی جیب میں رکھتے۔ جب اکیلےہوتے تو خوبصورت دھنیں بکھیرتے جو سننے والوں پر سحر طاری کردیتی تھیں۔
چھٹی کا دن: میجر عزیز بھٹی کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ وہ چھٹی کا دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ گھر میں بھی نظم و ضبط کی پابندی تھی۔ بچوں کے ناخن، بال، استری شدہ کپڑے اور پالش شدہ جوتے خود چیک کیا کرتے تھے۔ بچوں کی سائیکل خراب ہوتی تو ان کے پاس کھڑے ہو کران کو اوزار پکڑاتے اور نگرانی کرتےیہاں تک کہ بچےسائیکل خود ٹھیک کر لیتے، جس کا مقصد بچوں میں خود اعتمادی اور تکنیکی مہارت پیدا کرنا تھا۔ 
کتب بینی کی تاکید:عشاء کے بعد گھر میں مطالعے کا دورچلتاتھا۔ سب بچے مختلف کتب کا مطالعہ کرتے اور خود بھی بچوں کے ساتھ نقشے وغیرہ کھول کر بیٹھ جاتے اور انہیں دیکھتےتھے۔ ان کے گھر میں سب سے قیمتی اثاثہ لائبریری تھی۔ 
 آخری الفاظ: 6ستمبر 1965 ءکو دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور میں تعینات تھے۔ انہوں نے محاذِ جنگ پر جانے سے قبل بچوں کے سر وں پر ہاتھ رکھا اور ان کی والدہ سے کہا کہ بچوں کا خیال رکھنا۔’’ملک کو میری ضرورت ہے اور میں اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔‘‘
جنگِ ستمبر 1965: جنگ میں میجرعزیز بھٹی کو لاہور کے محاذ پر برکی سیکٹر پر فرائض سونپے گئے۔ انہوں نے پانچ دن اور پانچ راتوں تک مسلسل جاگ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ دشمن کے بیشتر ٹینک تباہ کروائے۔ وہ مسلسل دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لیتے رہے اورہر خطرے کو پاکستان کی طرف بڑھتے ہی تباہ و برباد کروادیتے۔ شدید فائرنگ کے باوجود وہ اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔12 ستمبر کو جب وہ دشمن کی پوزیشن کا کھوج لگا کر اس پر گولہ باری کروا رہے تھے تواسی دوران دشمن فوج کا ایک گولا ان کے سینے پرآ لگا۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وطن کی حرمت پر قربان ہوگئے۔ 
 تدفین: میجر عزیز بھٹی کو اپنے آبائی گھر میں دفن کیا گیا۔ ان کی وجہ یہ تھی کہ والدہ اپنے بیٹے سے شدید محبت کرتی تھیں۔ یہ ان کی والدہ کی خواہش تھی جسے پورا کیا گیا اور وطن کے بہادر سپوت میجرراجہ عزیز بھٹی شہید کوپورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے گھر کے صحن میں دفن کیا گیا۔
نشا نِ حیدر: قوم کے اس بہادر سپوت کومادرِ وطن کی حفاظت کے دوران جرأت و دلیری کے بے مثال مظاہرے پر افواجِ پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ جرأت وبہادری کی یہ بے مثال داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ہماری امنگیں وطن سے محبت اور جانثاری کی بے مثال کیفیت پر قربان ہوجائیں گی اور جب جب وطن پکارے گا، ہمارے بہادر سپوت قوم کی اُمیدوں پر پورا اُتریں گے۔ 
اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو 
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں